بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار
یہ کہانی میں نے آج سے 8 سال پہلے 2008میں ایک رسالہ گلیمر کہانی کے نام سے آتا تھا. اس میں پڑھی تھی بہت سے لوگوں کو شاید اِس کا پتہ بھی ہو گا . آج میں اِس کہانی کو پہلی دفعہ انٹرنیٹ کے کسی بھی فورم پے لکھنے لگا ہوں لیکن کہانی کو شروع کرنے سے پہلے میں بتا دوں یہ کہانی جنوبی پنجاب کے کسی گاؤں کی سچی کہانی ہے کہانی کا نام ہے بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار تھی. اِس بات کی پیشگی معذرت چاہتا ہوں کے کوئی بھی اِس کہانی یا کہانی کے کرداروں کو اپنے حالات و واقعات سے نتھی یامما سلت نہ کرے.
میرا نام وسیم ہے میرا تعلق ملتان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے میرے گھر کےکل 5 افراد ہیں .میں میری امی میرے ابّا جی میری دو بہن ہیں. سب سے پہلے میری بڑی بہن ہے جس کا نام فضیلہ ہے وہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کی ماں ہے . پِھر دوسرے نمبر میرا ہے میری بھی شادی ہو چکی ہے اور آخر میں میری چھوٹی بہن نبیلہ ہے جو کے ابھی غیر شادی شدہ ہے. اب میں اصل کہانی کی طرف آتا ہوں یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کر کے فارغ ہوا تھا اور آگے پڑھنے کے لیے ملتان شہر کے ایک کالج میں جاتا تھا . میرے ابّا جی ایک زمیندار تھے ہمارے پاس اپنی10  ایکڑ
زمین تھی .ابّا جی کے ایک چھوٹا بھائی تھا آدھی زمین اس کی تھی آدھی میرے ابّا جی کی تھی میرے ابّا جی اور چا چا اپنے اپنے حصے کی زمین پے کاشتکاری کیا کرتے تھے جس سے ہمارے گھر کا نظام چلتا تھا. جب میرا کالج کا آخری سال چل رہا تھا تو میرے چھوٹا  چا چا  اس نے میرے ابّا جی کو کہا کے وہ زمین بیچ کر اپنی فیملی کے ساتھ لاہور شہر میں جا کر سیٹ ہونا چاہتا ہے اور اپنے بیٹیوں کو شہر میں ہی اچھا پڑھانا چاہتا ہے میرے چا چےکی صرف 2 بیٹیاں ہی تھیں ، اِس لیے وہ اپنے حصے کی زمین بیچا چاہتا ہے. میرے ابّا جی نے بہت سمجھایا کے یہاں ہی رہو یہاں رہ کر اپنی بیٹیوں کو پڑھا لو لیکن اپنی زمین . نہیں بیچو لیکن میرا چا چا نہیں مانا اور آخر کار میرے ابّا جی نے اپنی بھی اور چا چے کی بھی زمین بیچ دی اور آدھی رقم چھوٹے چا چے کو دے دی اور آدھی رقم کو بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوا کر جمع کروا دی. اور پِھر ایک دن میرا چا چا اپنی فیملی کے ساتھ لاہور شہر چلا گیا . اور میرے ابّا جی بھی گھر کے ہو کر رہ گئے . میری بڑی باجی کی عمر اس وقعت 27 سال ہو چکی تھی میرے ابّا جی نے زمین کے کچھ پیسوں سے باجی کی شادی کر دی میری باجی کی شادی بھی اپنے رشتہ داروں میں ہو ہوئی تھی میری باجی کا میاں میری خالہ کا ہی بیٹا تھا. میں نے جب کالج میں بارہویں جماعت پاس کر لی تو میرے گھر کے حالات اب آگے پڑھنے کی اِجازَت نہیں دیتے تھے. اور میں نے بھی اپنے گھر کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ابّا جی پے بوجھ بنا گوارہ نہ کیا اور گھر کو سنبھالنے کا سوچ لیا. میں نے یہاں وہاں پے روزگار کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا . پِھر میں نے باہر کے ملک جانے کا سوچا پہلے تو میرے ابّا جی نے منع کر دیا لیکن پِھر میں نے ان کو گھر کے حالات سمجھا کر قائل کر لیا اور ابّا جی کے پاس جو باقی پیسے تھے ان پیسوں سے مجھے باہر سعودیہ بھیج دیا اور میں22 سال کی عمر میں ہی روزگار کے لیے سعودیہ چلا گیا. سعودیہ آ کر پہلے تو مجھے بہت مشکل وقعت برداشت کرنا پڑا لیکن پِھر کوئی 1 سال بعد میں یہاں سیٹ ہو گیا میں نے یہاں آ کر ڈرائیونگ سیکھ لی اور پِھر یہاں پے ہی ٹیکسی چلانے لگا . شروع شروع میں مجھے ٹیکسی کے کام کا اتنا نہیں پتہ تھا لیکن پِھر آہستہ آہستہ مجھے سب پتہ چلتا گیا اور میں ایک دن میں 14گھنٹے لگاتار ٹیکسی چلا کر پیسے کماتا تھا . آہستہ آہستہ میری محنت سے پاکستان میں میرے گھر کے حالات ٹھیک ہونے لگے اور تقریباً 5 سال میں میں 2 دفعہ ہی پاکستان گیا لیکن اِس محنت کی وجہ سے میرے گھر کے حالات کافی زیادہ ٹھیک ہو چکے تھے میں نے اپنے گھر کو کافی زیادہ اچھا اور مضبوط بنا لیا تھا ہمارا گھر 10مرلہ کا تھا پہلے وہ ایک حویلی نما گھر ہی تھا اس میں 3 کمرے اور کچن اور باتھ روم ہی تھا . پِھر میں نے سعودیہ میں رہ کر سب سے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کیا آب وہ حویلی نما گھر مکمل گھر بن چکا تھا اس کو ٹھیک کر کروا کر 2 سٹوری والا گھر بنا لیا پہلی سٹوری پے 3 ہی کمرے تھے اور دوسری اسٹوری پے 2 اور کمرے باتھ روم اور کچن بنا لیے تھے . مجھے سعودیہ میں کام کرتے ہوئے کوئی 6سال ہو چکے تھے اس وقعت میری عمر 28سال تھی تو میرے ابّا جی نے میری شادی کا سوچا اور مجھے پاکستان بلا کر اپنے چھوٹے بھائی یعنی میری چا چے کی بڑی بیٹی سائمہ سے میری شادی کر دی. سائمہ کی عمر 25 سال تھی وہ میری چھوٹی بہن کی ہم عمر تھی . شہر میں رہ کر شہر کے ماحول زیادہ پسند کرتی تھی . اِس لیے میں جب سعودیہ چلا جاتا تھا تو وہ زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر لاہور میں ہی رہتی تھی . جب میں پاکستان شادی کے لیے آیا تو ابّا جی نے میری شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور میں بھی خوش تھا مجھے سائمہ شروع سے ہی پسند تھی وہ خوبصورت بھی تھی اور سڈول اور سیکسی جسم کی مالک تھی . اس کا قد بھی ٹھیک تھا اور گورا  چاا اور بھرا ہوا جسم رکھتی تھی. سہاگ رات کو میں بہت خوش تھا کیونکہ آج سے مجھے ساری زندگی سائمہ کے جسم سے مزہ لینا تھا برات والے دن سب کام ختم ہو کر میں جب رات کو اپنے کمرے میں گیا تو سائمہ دلہن بنی بیٹھی تھی . میں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور پِھر دوسرے لوگوں کی طرح میں نے بھی اس سے کافی باتیں کی اور قسمیں وعدے لیے اور دیئے اور پِھر میں نے اپنی سہاگ رات کو سائمہ کو صبح 4 بجے تک جم کر 3 دفعہ چودا . میں ویسے بھی زمیندار کا بیٹا تھا گاؤں کے ماحول میں ہی زیادہ تر رہا تھا خالص چیزیں کھانے کا شوقین تھا میرا جسم بھی ٹھیک ٹھا ک تھا اور میرا ہتھیار بھی کافی مضبوط اور لمبا تھا تقریباً 7 انچ لمبا میرا لوں تھا . جس کی وجہ سے میں نے سائمہ کو پہلی ہی رات میں جام کر چودا تھا جس کا اس کو بھی ٹھیک ٹھا ک پتہ لگا تھا . کیونکہ صبح کو اس کی کمر میں درد ہو رہی تھی. جس کو میری چھوٹی بہن نبیلہ نے محسوس کر لیا تھا کیونکہ وہ سائمہ کی سہیلی بھی تھی . لیکن جب میں صبح سو کر اٹھا تو سائمہ میرے سے پہلے اٹھ چکی تھی اور وہ اندر باتھ روم میں نہا رہی تھی . میں نے جب بیڈ کی شیٹ پے نظر ماری تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ بیڈ کی سفید چادر بالکل صاف تھی اس پے سائمہ کی پھدی کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا اور جہاں تک مجھے پتہ تھا یہ سائمہ کی زندگی کی پہلی چدائی تھی اور اِس میں تو اس کا میرے کافی اچھے اور مضبوط لن سے اس کی پھدی کی سیل ٹوٹنی چاہیے تھی اور خون بھی نکلنا چاہیے تھا . بس اِس ہی سوال نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا.


. . . . . . . . . . . . جاری ہے
اگلے دن ولیمہ تھا اور میں سارا دن بس یہ سوچ میں تھا کے کیا سائمہ کی پھدی سیل نہیں تھی . کیا وہ پہلے بھی کسی سے کروا چکی ہے . یا لاہور میں اس کا کوئی یار ہے جس سے وہ اپنی پھدی مروا چکی ہے . بس یہ ہی میرے دماغ میں چل رہے تھے . یوں ہی ولیمہ والا دن بھی گزر گیا اور رات ہو گئی اور اس رات بھی میں نے 2 دفعہ جم کر سائمہ کی پھدی ماری لیکن سیل پھدی والی بات میرے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی . میں حیران تھا کے سائمہ دو دن سے دِل وجان سے مجھ سے چودوا رہی ہے اور کھل کر میرا ساتھ دے رہی ہے اور ہنسی خوشی میرے ساتھ بات بھی کر رہی لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دماغ بس سائمہ کی سیل پھدی والی بات پے ہی اٹک گیا تھا اور میں نے اپنے دِل و دماغ میں ہی وہم پال لیا تھا. ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے اس کی ہونے والی بِیوِی صاف اور پاکباز ہو اور سیل پیک ہو لیکن میرے ساتھ تو شاید دھوکہ ہی ہو گیا تھا . ولیمہ والی رات بھی گزر گئی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں کروں تو کیا کروں اور کس سے اپنے دِل کی بات کروں . اور پِھر اگلی صبح سائمہ کے گھر والے آ گئے اور سائمہ اس دن دو پہر کو اپنے ماں باپ کے ساتھ لاہور اپنے گھر چلی گئی . سائمہ کے چلے جانے کے بعد میں بس اپنے کمرے میں ہی پڑا رہا بس اپنے وہم کے بارے میں ہی سوچتا رہا میری بڑی باجی فضیلہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر پے ہی آئی ہوئی تھی شادی کے بعد وہ اپنے گھر سسرال نہیں گئی تھی. میں شام تک اپنے کمرے میں ہی تھا تو 6 بجے کے وقعت ہو گا جب فضیلہ باجی میرے کمرے میں آئی اور لائٹ آن کر کے میرے بیڈ کے پاس آ گئی میں اس وقعت جاگ رہا تھا . باجی میرے پاس آ کر بولی وسیم کیا ہوا ہے یوں کمرے میں اکیلا کیوں بیٹھا ہے باہر سب ا می ابّا جی تمھارا پوچھ رہے ہیں . میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا باجی بس ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور لیٹا ہوا تھا . باجی میرے بیڈ پے بیٹھ گئی اور میرے ماتھے پے ہاتھ رکھا تو مجھے بخار وغیرہ تو نہیں تھا اِس لیے باجی بولی تمہیں بخار بھی نہیں ہے پِھر طبیعت کیوں خراب ہے. میں نے کہا ویسے ہی باجی تھکن سی ہو گئی تھی تو جسم میں دردتھی . باجی نے کہا چل میرا بھائی لیٹ جا میں تیرا جسم دبا دیتی ہوں . میں نے کہا نہیں باجی میں بالکل ٹھیک ہوں بس تھوڑی سی تھکن کی وجہ سے ہے آپ پریشان نہ ہوں . میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور باجی سے بولا چلو باجی باہر ہی چلتے ہیں تو باجی اور میں باہر آ گئے باہر صحن میں سب بیٹھے چائے پی رہے تھے . میں بھی وہاں بیٹھ گیا اور چائے پینے لگا اور یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگا . گھر میں شاید نبیلہ ہی تھی جو میری ہر پریشانی اور بات کو سمجھ جایا کرتی تھی وہ باجی کے چلے جانے کے بَعْد بھی میرا بہت خیال رکھتی تھی گھر کی سا ری ذمہ داری اس پے تھی ابّا جی اور ا می کا خیال گھر کے کام سب وہ اکیلا کرتی تھی میں وہاں کافی دیر تک بیٹھ رہا باجی اور نبیلہ اٹھ کر کچن میں رات کا كھانا بنانے چلی گئی . اور میں وہاں سے اٹھ کر سیدھا چھت پے چلا گیا اور وہاں چار پای رکھی تھی اس پے لیٹ گیا اور دوباہ پِھر سائمہ کے بارے میں سوچنے لگا. . تقریبا 1 گھنٹے بعد نبیلہ چھت پے آئی اور آ کر بولی وسیم بھائی كھانا تیار ہو گیا ہے نیچے آ جاؤ سب انتظار کر رہے ہیں . میں نے کہا ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں وہ یہ کہہ کر نیچے چلی گئی اور میں بھی وہاں سے اٹھ کر نیچے آ گیا اور سب کے ساتھ مل بیٹھ کر كھانا کھانے لگا کھانے کے دوران بھی میں بس خاموش ہی تھا. كھانا کھا کر میں تھوڑی دیر تک امی اور ابّا جی سے باتیں کرتا رہا اور پِھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر بیڈ پے لیٹ گیا میں سوچنے لگا مجھے سائمہ سے بات کرنی چاہیے اور اپنا شق کو ختم کرنا چاہیے . پِھر میں یہ ہی سوچتا سوچتا سو گیا اگلے دن دو پہر کا وقعت تھا جب میں اپنے کمرے میں بیٹھ ٹی وی دیکھ رہا تھا تو فضیلہ باجی میرے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے ساتھ بیڈ پے بیٹھ گئی. کچھ دیر تک وہ بھی خاموشی سے ٹی وی دیکھتی رہی پِھر کچھ ہی دیر بعد بولی وسیم مجھے تم سے ایک بات پوچھنی ہے . میں نے ٹی وی کی آواز آہستہ کر دی اور باجی کی طرف دیکھ کر بولا کہو باجی آپ کو کیا پوچھنا ہے. باجی بولی وسیم میں 3 دن سے دیکھ رہی ہوں تم بہت چُپ چُپ رہتے ہو شادی تک تم اتنا خوش تھے اور شادی کی رات تک اتنا خوش نظر آ رہے تھے اور ویسے بھی سائمہ تمہیں پسند بھی تھی پِھر آخر ایسی کیا بات ہے تم شادی کی رات سے لے کر اب تک خاموش ہو کیا مسئلہ ہے مجھے بتاؤ میں تمھاری بڑی باجی ہوں کیا کوئی سائمہ کے ساتھ مسئلہ ہوا ہے . مجھے بتاؤ شاید میں تمھاری کوئی مدد کر سکوں. میں باجی کی بات سن کر تھوڑا بوكھلا سا گیا اور پِھر یکدم اپنے آپ کو سنبھالا اور باجی کو کہا باجی کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے اور نہ ہی سائمہ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے . آپ بلا وجہ پریشان نا ہوں . باجی نے کہا پِھر اپنے کمرے میں ہی کیوں بیٹھے رہتے ہو باہر کیوں نہیں نکلتے پِھر باجی تھوڑا ہنس کر بولی لگتا میرے چھوٹے بھائی کو سائمہ کی یاد بہت آتی ہو گی. میں باجی کی بات سن کر شرما گیا اور بولا نہیں باجی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے . باجی نے کہا اگر میرا بھائی اداس ہے تو میں سائمہ کو فون کرتی ہوں کے وہ جلدی واپس آ جائے اور آ کر میرے بھائی کا خیال رکھے . میں فوراً بولا نہیں باجی ایسا نہیں کرو میں بالکل ٹھیک ہوں کوئی اداس نہیں ہوں آپ اس کو نہ بلاؤ وہ اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہوئی ہے اس کو رہنے دو . باجی نے کہا اچھا ٹھیک ہے نہیں کرتی لیکن تم پِھر اپنی حالت ٹھیک کرو کوئی باہر نکلو کسی سے ملو بات کرو . میں نے کہا جی باجی آپ فکر نہ کریں میں جیسا آپ کہہ رہی ہیں ویسا ہی کروں گا. پِھر باجی کچھ دیر وہاں بیٹھی یہاں وہاں کی باتیں کرتی رہی اور پِھر اٹھ کر چلی گئی . میں نے سوچا مجھے گھر میں کسی کو شق میں نہیں ڈالنا چاہیے جب سائمہ آئے گی تو اس سے بات کر کے ہی کچھ آگے کا سوچوں گا2  دن کے بَعْد باجی اپنے گھر چلی گئی اور دن یوں ہی گزر رہے تھے پِھر کوئی ایک ہفتے بَعْد سائمہ واپس آ گئی اس کے ماں باپ ہی اس کو چھوڑ نے آئے تھے وہ ایک دن رہ کر واپس چلے گئے . میں ہر روز ہی سائمہ کے ساتھ بات کرنے کا سوچتا لیکن وقعت آنے پے میری ہمت جواب دے جاتی تھی . میں تقریباً ہر دوسرے دن ہی سائمہ کو چودلیتا تھا اس اس کا میرے ساتھ کھل کر ساتھ دینا اور ہنسی خوشی میرے ساتھ رہنا اور باتیں کرنا میرے شق کو ختم کر دیتا تھا لیکن اکیلے میں میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا رہتا تھا . اور یوں ہی دن گزرتے جا رہے تھے اور آخر کام میری چھٹی ختم ہو گئی مجھے پاکستان آئے ہوئے 3 مہینے ہو گئے تھے
اور میں ان 3 مہینوں میں سائمہ سے بات تک نہ کر سکا اور یوں ہی واپس سعودیہ چلا گیا . میں جب سعودیہ سے گھر پے فون کرتا تو سائمہ میرے ساتھ ہنستی خوشی بات کرتی رہتی تھی . مجھے سعودیہ واپس آ کر 1 سال ہو چکا تھا اِس دوران میں نے نوٹ کیا میری چھوٹی بہن نبیلہ مجھے سے زیادہ بات کرنے لگی تھی اور مجھے گھر کی ایک ایک بات بتاتی تھی اور میرے بارے میں ہوچھتی رہتی تھی . مجھے ایک وقعت پے شق ہوا شاید نبیلہ مجھے کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن وہ کہہ نہیں پاتی اور ہر دفعہ بس یہاں وہاں کی باتیں کر کے فون بند کر دیتی تھی . میرے سعودیہ آ جانے سے سائمہ زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر ہی رہتی تھی . کبھی 1 مہینہ اپنے ماں باپ کے پاس کبھی اپنے سسرال میں بس یوں ہی اس کا نظام بھی چل رہا تھا. یوں ہی 2 سال پورے ہوئے اور میں پِھر پاکستان چھٹی پے گھر آ گیا . مجھے آئے ہوئے 1 ہفتہ ہو گیا تھا . ایک دن میں نے اپنے ابا جی اور امی سے کہا کے آپ نبیلہ کے لیے کوئی رشتہ دیکھیں اب اس کی عمر بہت ہو گئی ہے . میری یہ بات کرنے کی دیر تھی وہاں پے بیٹھی نبیلہ غصے سے اٹھی اور منہ بناتی وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی . پِھر ابا جی بولے کے وسیم پتر دیکھ لیا ہے اِس کا غصہ ہم تو اِس کے پیچھے 2 سال سے لگے ہوئے ہیں، لیکن یہ ہے کے بات ہی نہیں مانتی . رشتہ تو بہت ہی اچھا ہے اِس کے لیے لیکن یہ مانتی ہی نہیں ہے . میں نے کہا ابا جی لڑکا کون ہے مجھے بتائیں تو ابا جی نے کہا لڑکا کوئی اور نہیں تیری پھوپھی کا بیٹا ہے ظھور  پڑھا لکھا ہے شکل صورت والا ہے سرکاری ملازم ہے . میں نے جب ظھور کا سنا تو سوچنے لگا کے گھر والوں نے رشتہ تو اچھا دیکھا ہوا ہے لیکن آخر یہ نبیلہ مانتی کیوں نہیں ہے. پِھر میں نے کہا ابّا جی آپ فکر نہ کریں میں نبیلہ سے خود بار کروں گا . اور اگلے دن شام کو میں چھت پے چار پای پے لیٹا ہوا تھا تو کچھ دیر بعد ہی نبیلہ اوپر آ گئی اس نے دھو نے والے کپڑے اٹھا ے ہوئے تھے شاید وہ دھو کے اوپر چھت پے ڈالنے آئی تھی. جب وہ کپڑے ڈال کر فارغ ہو گئی تو بالٹی وہاں رکھ کر میرے پاس آ کر چار پائی پے بیٹھ گئی اور بولی وسیم بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے . میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا نبیلہ مجھے بھی تم سے ایک بات کرنی ہے . تو نبیلہ بولی بھائی اگر آپ نے مجھے سے میری شادی کی بات کرنی ہے تو میں آپ کو صاف صاف بتا دیتی ہوں مجھے شادی نہیں کرنی ہے . میں نبیلہ کی بات سن کر حیران ہو گیا اور اس کی طرف دیکھنے لگا پِھر میں نے کہا نبیلہ میری بہن آخر مسئلہ کیا ہے تمہیں شادی کیوں نہیں کرنی ہے . کیا تمہیں ظہور پسند نہیں ہے یا کوئی اور ہے جس کو تم پسند کرتی ہو . مجھے بتاؤ یقین کرو میں برا نہیں گا اور غصہ نہیں کروں گا تم جیسا چاہو گی ویسا ہی ہو گا . نبیلہ فوراً بولی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے مجھے کوئی اور لڑکا پسند نہیں ہے اور نہ ہی میں ظہور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں میں بس اپنے گھر میں ہی رہنا چاہتی ہوں اپنے ماں باپ کے ساتھ مجھے شادی کی کوئی ضرورت نہیں ہے . تو میں نے کہا نبیلہ میری بہن تم پاگل تو نہیں ہو دیکھو اپنی عمر دیکھو 27 سال ہو گئی ہو کیوں اپنے اوپر ظلم کر رہی ہو . اچھی بھلی جوان ہو خوبصورت ہو کیوں اپنی زندگی تباہ کرنے لگی ہوئی ہو . تو وہ بولی بھائی مجھے یہ زندگی منظور ہے لیکن کم سے کم آپ کی طرح تو نہیں ہو گا نہ کے بِیوِی بھی ہو اور آپ کی نہ ہو اور بندہ اندر ہی اندر زخم کھاتا رہے . وہ یہ بات بول کر لال سرخ ہو چکی تھی اور وہاں سے بھاگتی ہوئی نیچے چلی گئی. نبیلہ کے اِس آخری بات نے مجھے حیرت کا شدید جھٹکا دیا اور میں حیران وپریشان بیٹھا سوچ رہا تھا کے نبیلہ کیا کہہ کر گئی ہے . وہ کیا کہنا چاہتی تھی . کیا میرے اندر جو اتنے سال سے شق ہے کیا وہ اس کو جانتی ہے . کیا وہ سائمہ كے بارے میں بھی جانتی ہے . ایک دفعہ پِھر میرے دِل ودماغ میں سائمہ والی بات گونجنے لگی . میں یہ ہی سوچتا سوچتا نیچے اپنے کمرے میں آ گیا اور تو دیکھا سائمہ کسی کے ساتھ فون پے بات کر رہی تھی . مجھے دیکھتے ہی فون پے بولی اچھا امی پِھر بات کروں گی . اور فون بند کر دیا . اور مجھ سے بولی آپ کے لیے چائے لے آؤں . میں نے کہا ہاں لے آؤ اور وہ کچن میں چلی گئی . پِھر اس رات میں نے سائمہ کے ساتھ کچھ نہیں کیا اور جلدی ہی سو گیا . میں اب موقع کی تلاش میں تھا کے مجھے اکیلے میں موقع ملے تو میں نبیلہ سے کھل کر بات کروں گا . لیکن شاید مجھے موقع نہیں مل سکا اور ایک دن لاہور سے خبر آئی کے سائمہ کے ابو یعنی میرے چا چا جی زیادہ بیمار ہیں . میں سائمہ کو لے کر لاہور آ گیا چا چا کی طبیعت زیادہ خراب تھی وہ اسپتال میں ایڈمٹ تھے میں سیدھا چا چے کے پاس اسپتال چلا گیا ان کوگرد ےفیل ہو چکے تھے وہ بس اپنی آخری سانسیں گن رہے تھے . میں نے جب چا چے کی یہ حالت دیکھی تو مجھے رونا آ گیا کیونکہ میری چا چے کے ساتھ بہت محبت تھی بچپن میں بھی چا چے نے مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی . جب چا چے نے مجھے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے . میں وہاں بیٹھ کر چا چے کے ساتھ آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا . کچھ دیر کے لیے میں باہر گیا اور نبیلہ کے نمبر پے کال کی اور اس کو بتایا کے ابّا جی کو لے کر تم سب لاہور آ جاؤ چا چے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے . پِھر دوبارہ آ کر چا چے کے پاس بیٹھ گیا جب میں اندر آیا تو اس وقعت کوئی بھی اندر نہیں تھا میں اکیلا ہی چا چے کے ساتھ بیٹھا تھا . میں نے چا چے ہاتھ پکڑ کر ان کے ماتھے پے پیار کیا تو چا چے نے مجھے اشارہ کیا کے اپنا کان میرے منہ کے پاس لے کر آؤ میں جب چا چے کے نزدیک ہوا تو چا چے نے کہا وسیم پتر مجھے معاف کر دینا میں نے تیرے ساتھ ظلم کیا ہے . تیری چا چی اور تیری بِیوِی سائمہ ٹھیک نہیں ہیں اور تو خدا کے لیے میری چھوٹی بیٹی کو ان سے بچا لینا . میں نے کہا چچا جی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں . بس پِھر چا چے کے منہ سے اتنا ہی لفط نکلا نبیلہ اور شاید چا چے کی سانسوں کی ڈوری ٹوٹ چکی تھی . چا چے کا سانس اُکھڑ نے لگ گئی تھی میں بھاگتا ہوا باہر گیا ڈاکٹر کو بلا نے کے لیے لیکن شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا جب میں واپس ڈاکٹر کو لے کر کمرے میں داخل ہوا تو چا چا جی اِس دُنیا کو چھوڑ کر جا چکے تھے. پِھر ہم میت لے کر گھر آ گئے میرے ابّا جی اور میرے گھر والے بھی شام تک آ گئے تھے . میرے ابّا جی بہت روے کیونکہ ان کا ایک ہی بھائی تھا . میں بھی بہت رویا اور سوچتا رہا کے چا چے کو پتہ نہیں کیا کیا دُکھ سائمہ اور چا چی نے دیئے ہوں گے جو وہ مجھے ٹھیک طرح سے بتا بھی نا سکے. جب جنازہ وغیرہ ہو گیا تو چا چے کے گھر پر میں نے ایک اجنبی سا بندہ دیکھا اس کی عمر شاید 29یا30 سال کے لگ بھاگ لگ رہی تھی. وہ بندہ اجنبی تھا میں تو اپنے سارے رشتے دارو ںکو جانتا تھا . وہ بار بار چاچی کے ساتھ ہی بات کرتا تھا اور ان کے آگے پیچھے ہی پِھر رہا تھا . ایک بات اور میں نے نوٹ کی میری بہن نبیلہ اس کو بہت غصے سے دیکھ رہی تھی اور اس کی ہر حرکت پے نظر رکھے ہوئے تھی . یہاں پے چا چی کا بتا دوں میرے چا چے نے خاندان سے باہر شادی کی تھی وہ تھی بھی شکل صورت والی اور ناز نخرے والی تھی . اس کی عمر بھی لگ بھاگ 37یا 38 سال تھی . اس نے چا چے کو زمین بیچ کر لاہور میں رہنے کے لیے اکسایا تھا . اور میرا بے چارہ چا چا شاید اس کی باتوں میں آ گیا تھا. خیر وہ وقعت وہاں گزر گیا ہم چا چے کے گھر مزید ایک ہفتہ رہے اور پِھر اپنے گھر واپس آ گئے جب ہم واپس آنے لگے تو سائمہ نے تو ابھی مزید کچھ دن اور رکنا تھا لیکن سائمہ کی چھوٹی بہن ثناء جس کی عمر 16 سال کے قریب تھی وہ میرے ابّا جی سے کہنے لگی تایا ابو میں نے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے
میرے ابّا جی فوراً راضی ہو گئے اور اس کو بھی ہم ساتھ لے آئے لیکن میں ایک بات پے حیران تھا کے سائمہ یا اس کی ماں نے ایک دفعہ بھی ثناء کو ساتھ جانے سے منع نہیں کیا جو کہ مجھے بہت عجیب لگا . خیر ہم واپس اپنے گھر آ گئے. جب ہم گھر واپس آ گئے تو ایک دن دو پہر کو میں اپنے کمرے میں بیٹھ ٹی وی دیکھ رہا تھا تو نبیلہ میرے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے بیڈ کے دوسرے کونےپے آ کر بیٹھ گئی اور بولی بھائی مجھے آپ سے بہت سی ضروری باتیں کرنی ہیں . لیکن فلحال ایک بات کرنے یہاں آئی ہوں . میں نے ٹی وی بند کر دیا اور بولا ہاں بولو نبیلہ کیا بات کرنی ہے میں سن رہا ہوں . نبیلہ نے کہا بھائی ثناء نے میٹرک کر لیا ہے اور وہ اب بڑی ہو چکی ہے آپ اس کو اگلی پڑھائی کے لیے لاہور سے دور کسی اچھے سے کالج میں داخلہ کروا دو میں نہیں چاہتی وہ اپنے گھر میں اور زیادہ رہے وہ جتنا اپنے گھر سے دور رہے گی تو محفوظ رہے گی. میں نے کہا نبیلہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ اپنے گھر سے باہر کیسے زیادہ محفوظ رہے گی مجھے تمہاری یہ بات سمجھ نہیں آ رہی ہے . چا چے نے بھی مرتے ہوئے مجھے چا چی اور سائمہ کے بارے میں کہا تھا کے یہ دونوں ٹھیک نہیں ہے اور تمہارا نام لے رہے تھے اور پِھر وہ آگے کچھ نہ بول سکے اور دنیا سے ہی چلے گئے . نبیلہ یہ سب کیا ہے کیا تم کچھ جانتی ہو . اس دن تم نے چھت پے جو بات کہی تھی وہ بھی تم نے بول کر مجھے عجیب سے وہم میں ڈال دیا ہے. نبیلہ نے کہا بھائی آپ فل حال پہلے ثناء کا کچھ کریں اور تھوڑا سا انتظار کریں میں آپ کو سب کچھ بتا بھی اور سمجھا دوں گی. میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن کیا ثناء راضی ہے . تو نبیلہ نے کہا وہ تو راضی ہی راضی ہے وہ خود اب اس گھر میں نہیں جانا چاہتی ہے . میں نے کھا اچھا ٹھیک ہے میں کل ہی اسلام آباد میں کسی سے بات کرتا ہوں اِس کو وہاں اچھے سے کالج میں داخلہ بھی کروا دیتا ہوں اور ہاسٹل بھی لگوا دیتا ہوں . نبیلہ پِھر شکریہ بول کر باہر چلی گئی جب وہ باہر جا رہی تھی میری یکدم نظر اپنی بہن کی گانڈ پے گئی تو دیکھا اس کی قمیض شلوار کے اندر پھنسی ہوئی تھی اور اس کی گانڈ بھی کافی بڑی اور مو ٹی تازی تھی . مجھے اپنے ضمیر نے فوراً ملامت کیا اور میں پِھر خود ہی اپنی سوچ پے بہت شرمندہ ہوا. پِھر میں اپنے بیڈ پے لیٹ گیا اور سوچنے لگا کے نبیلہ سائمہ اور چا چی کے بارے میں کیا جانتی ہے . کیا اِس بات کا چا چے کو بھی پتہ تھا جو اس نے مجھے آخری ٹائم پے بولا تھا. اگلے دن میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا وہ میرے کالج وقعت کا دوست تھا وہ اب اسلام آباد شہر میں کسی سرکاری مہکمہ میں آفیسر لگا ہوا تھا. اس نے مجھے 2 دن کے اندر ساری معلومات اکٹھی کر کے دی. میں ثناء کو لے کر لاہور آ گیا اور اس کا سارا ساما ن اکھٹا کیا اور اس کو لے کر اسلام آباد چلا گیا میں دوبارہ پِھر حیران ہوا کے اِس دفعہ بھی چا چی یا سائمہ نے ثناء کے لیے منع نہیں کیا خیر میں ثناء کو اسلام آباد میں آ کر اس کے کالج اور ہاسٹل کا سارا بندوبست کر کے پِھر میں واپس لاہور آ گیا اور لاہور سے سائمہ کو لیا اور اپنے گھر واپس آ گیا جب میں سائمہ کو لاہور سے لینے گیا تو چا چی کی بھی کہا آپ بھی چلو آپ بھی وہاں کچھ دن جا کر رہ لینا لیکن چا چی کا جواب بہت ہی عجیب اور معنی خیز تھا انہوں نے کہا میرا کیا وہاں گاؤں میں رکھا ہے اور ویسے بھی دنیا کا مزہ تو شہر میں ہی ہے . مجھے اب کچھ کچھ اپنے چا چے کی بات سمجھ لگنے لگی تھی. میں گھر آ کر موقع کی تلاش میں تھا کے میں نبیلہ سے کھل کر بات کر سکوں اور سب باتیں سمجھ سکوں . لیکن کوئی اکیلے میں موقع نہیں مل رہا تھا . میری چھٹی بھی 1 مہینہ ہی رہ گئی تھی اور مجھے واپس سعودیہ بھی جانا تھا . میرا اور سائمہ کا جسمانی تعلق تو تقریباً چل رہا تھا لیکن آب شاید وہ بات نہیں رہ گئی تھی کیونکہ میرا شق یقین میں بدلتا جا رہا تھا . پِھر ایک دن میں صحن میں بیٹھ اِخْبار پڑھ رہا تھا تو نبیلہ شاید فرش دھو رہی تھی اس نے اپنی قمیض اپنی شلوار میں پھنسائی ہوئی تھی اور فرش دھو رہی تھی . میری یکدم نظر اس پے گئی تو حیران رہ گیا اور دیکھا اس کی شلوار پوری گیلی ہوئی تھی اس نے سفید رنگ کی کاٹن کی شلوار پہنی ہوئی تھی جو کے گیلا ہونے کی وجہ سے اس کی نیچے پوری گانڈ صاف نظر آ رہی تھی . نبیلہ کا جسم ایک دم کڑک تھا سفید رنگت بھرا ہوا سڈول جسم تھا . نبیلہ کی گانڈ کو دیکھ کر میری شلوار میں برا حال ہو چکا تھا . اور اپنے لن کو اپنی ٹانگوں کے درمیان میں دبا رہا تھا . میں نے اپنی نظر اِخْبار پر لگا لی لیکن شیطان بہکا رہا تھا اور میں چور آنکھوں سے بار بار نبیلہ کی طرف ہی دیکھ رہا تھا . مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے کب میں نے اپنا لن اپنی شلوار کے اوپر سے ہی ہاتھ میں پکڑ لیا تھا اور اس کو زور زور سے مسل رہا تھا . اور نبیلہ کی گانڈ کو ہی دیکھ رہا تھا . میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا ہے یہ بہن ہے . لیکن شیطان مجھے بہکا رہا تھا . مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے میری بہن نے مجھے ایک ہاتھ سے اِخْبار اور دوسرے ہاتھ سے اپنا لن مسلتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور میری آنکھوں کو بھی دیکھ لیا تھا کے وہ نبیلہ کی گانڈ کو ہی دیکھ رہی ہیں . مجھے اس وقعت احساس ہوا جب پانی کا بھرا ہوا مگ نبیلہ کے ہاتھ سے گرا اور مجھے ہوش آیا میں نے نبیلہ کی طرف دیکھا تو وہ مجھے پتہ نہیں کتنی دیر سے دیکھ رہی تھی مجھے بس اس کا چہرہ لال سرخ نظر آیا اور وہ سب کچھ چھوڑ کر اندر اپنے کمرے میں بھاگ گئی . مجھے ایک شدید جھٹکا لگا اور میں شرم سے پانی پانی ہو گیا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا میری بِیوِی باتھ روم میں نہا رہی تھی . میں بیڈ پیٹ لیٹ گیا اور شرم اور ملامت سے سوچنے لگا یہ مجھے سے کتنی بڑی غلطی ہو گئی ہے. میں شام تک اپنے کمرے میں ہی لیٹا رہا اور اپنے کمرے سے باہر نہیں گیا اور رات کو بھی طبیعت کا بہانہ بنا کر سائمہ کو بولا میرا كھانا بیڈروم میں ہی لے آؤ . میں بس یہ ہی سوچ رہا تھا کے آب میں کس منہ سے اپنی بہن کا سامنا کروں گا . وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہو گی . بس یہ ہی سوچ سوچ کر دماغ پھٹا جا رہا تھا . پِھر رات کو میں كھانا کھا کر سو گیا اور اس رات بھی میں نے سائمہ کے ساتھ کچھ نہیں کیا . شاید سائمہ مسلسل 3 دن سے میرے سے مزہ لیے بغیر سو رہی تھی اور سوچ بھی رہی ہو گی کے آج کل کیا مسئلہ ہے . صبح میں جب 9 بجے اٹھا تو دیکھا سائمہ بیڈ پے نہیں تھی پِھر میں اٹھ کر باتھ روم میں گیا نہا دھو کرباہر آیا الماری سے اپنے کپڑےنکالنےلگا اتنی دیر میں سائمہ آ گئی وہ آتے ہی میرے ساتھ چپک گئی مجھے ہونٹوں پے کس کی اور نیچے سے میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی ہاتھ میں پکڑ لیا اور بولی وسیم جانو کیا بات ہے 3 دن ہو گئے آپ بھی ناراض ہو اور آپ کا شیر بھی ناراض ہے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے کیا. ابھی اتنی ہی بات سائمہ نے کی تھی کے نبیلہ اندر کمرے میں آ گئی اور بولتے بولتے رک گئی شاید وہ ناشتے کا بولنے آئی تھی . لیکن اندر آ کر جو منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا وہ میرے اور نبیلہ کے لیے بہت شرمناک تھا کیونکہ سائمہ تو میری بِیوِی ہے لیکن نبیلہ تو بہن ہے . نبیلہ نے سائمہ کو میرے لن کو پکڑا ہوا صاف دیکھ لیا تھا اور سائمہ نے بھی نبیلہ کو دیکھ لیا تھا . ایک بار پِھر نبیلہ کا چہرہ لال سرخ ہو گیا اور وہ باہر بھاگ کر چلی گئی . میں نے سائمہ کو کہا کچھ تو خیال کیا کرو ایک جوان لڑکی گھر میں ہے اور وہ بھی میری ساگی بہن ہے اور تم دن میں ہی یہ حرکت کر رہی ہو .
سائمہ تو شاید ڈھیٹ تھی آگے سے بولی وہ کون سا بچی ہے اس کو بھی سب پتہ ہے آخر اس نے بھی کسی نہ کسی دن لن لینا ہی ہے پِھر اِس میں اتنا پریشان ہونے کی کیابات ہے میں تو کہتی ہوں تم نبیلہ کی شادی کروا دو وہ بیچاری بھی کسی لن کے لیےترس رہی ہو گی میں نے غصے سے سائمہ کو دیکھا اور بولا تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے اور کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گیا اور کپڑے بَدَلنے لگا. کپڑے بَدَل کر گھر سے باہر نکل گیا اور اپنے کچھ دوستو سے جا کر گپ شپ لگانے لگا تقریباً 2 بجے کے قریب میں گھر واپس آیا تو دروازہ نبیلہ نے ہی کھولا اور دروازہ کھول کر اندر چلی گئی . جب میں اندر گیا تو دیکھا سب بیٹھے كھانا شروع کرنے لگے تھے میں بھی مجبورا وہاں ہی بیٹھ گیا اور كھانا کھانے لگا . میں نے کن اکھیوں سے نبیلہ کو دیکھا لیکن وہ كھانا کھانے میں مصروف تھی . پِھر جب سب نے كھانا کھا لیا تو نبیلہ اور سائمہ نے برتن اٹھانا شروع کر دیئے اور میں آ کر اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پے لیٹ گیا اور کچھ ہی دیر میں آنکھ لگ گئی. شام کو سو کر اٹھا تو سائمہ چائے بنا کر لے آئی اور . یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگی اور مجھے کہنے لگی آپ اور میں کچھ دن لاہور ا می کی طرف نہ رہ آئیں . میں نے کہا سائمہ ابھی تھوڑے دن پہلے تم آئی ہو اور اب پِھر لاہور جانے کا کہہ رہی ہو . میری چھٹی تھوڑی رہ گئی ہے میرے واپس چلے جانے کے بعد خود چلی جانا اور جتنے دن مرضی رہ لینا . وہ میری بات سن کر خاموش ہو گئی . پِھر ایسے ہی کچھ دن مزید گزر گئے نبیلہ مجھے سے اور میں نبیلہ سے کترا رہے تھے پِھر جب میرا 1 ہفتہ باقی رہ گیا تو ایک دن میری ا می اور سائمہ میری خالہ کے گھر گئے ہوئے تھے خالہ کا گھر زیادہ دور نہیں تھا پاس میں ہی تھا . اور ابّا جی باہر کسی کام سے گئے ہوئے تھے اور گھر پے شاید میں اور نبیلہ اکیلے ہی تھے . لیکن مجھے بَعْد میں پتہ چلا کے ہم دونوں گھر میں اکیلے ہیں کیونکہ میں صبح سے اپنے کمرے میں ہی تھا . پِھر تقریباً 11بجے کا وقعت تھا میں نہانے کے لیے اپنے اٹیچ باتھ روم میں گھس گیا مجھے پتہ تھا میرے کمرے کے باتھ روم میں میرے یا میری بِیوِی کے علاوہ کوئی نہیں آتا تھا . اِس لیے میں نے دروازہ لاک نہیں کیا اور باتھ روم میں جا کر نہانے لگا . جب میں نے نے باتھ روم میں داخل ہو کر اپنے کپڑے اُتار لیے اور شاور چلا دیا پِھر اپنے جسم پے صابن لگانے لگا جب میں اپنے لن پے صابن لگا رہا تھا تو میرا لن کھڑا ہونے لگا اور کچھ دیر کے صابن سے میرا لن تن کے کھڑا ہو گیا اور میں آہستہ آہستہ مٹھ والے اسٹائل میں صابن لن پے لگانے لگا مجھے پتہ ہی نہیں چلا یکدم نبیلہ میرے باتھ روم میں آ گئی اور اس کی سیدھی نظر میرے لن پے گئی تو وہ ایک بار پِھر شرم سے لال ہو گئی اور دروازے کو بند کر کے باہر سے بس اتنا ہی بولا کے سوری بھائی میرا شیمپو ختم ہو گیا تھا اِس لیے بھابی کا لینے کے لیے آئی تھی اور یہ بول کر وہ چلی گئی . میں بھی جلدی سے نہایا اور اور نہا کر کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکل گیا یہ 3 دفعہ میرے اور نبیلہ کے درمیان ہو چکا تھا . اور مجھے تو اب اپنے آپ پر بھی بہت شرم آنے لگی تھی کے ہر دفعہ میری بہن کے ساتھ ہی کیوں یہ ہو جاتا ہے وہ بیچاری کیا سوچتی ہو گی. میں سارا دن باہر گھوم پِھر کر شام کو گھر واپس آیا اور آ کر سیدھا اپنے کمرے میں لیٹ گیا . اب تو میری بالکل ہمت جواب دے چکی تھی کے اگر میرا سامنہ نبیلہ سے ہوتا ہے یا وہ مجھے سے یہ 3 دفعہ کے حادثے کے بارے میں کوئی سوال پوچھے گی تو میں کس منہ سے اور کیا جواب دوں گا. اگلے 2 سے 3 دن تک میں نبیلہ کا زیادہ سامنا نہیں کیا اور یوں ہی دن گزر گئے . واپسی سے دو دن پہلے میں شام کے وقعت چھت پے بیٹھا ہوا تھا اور سعودیہ میں کسی سے فون پے بات کر رہا تھا . تو نبیلہ میری چائے لے کر اوپر آ گئی نبیلہ کو دیکھ کر میں تھوڑا گھبرا سا گیا کیونکہ مجھے اس کا سامنا کرتے ہوئے شرم آ رہی تھی . نبیلہ آ کر چار پائی پے بیٹھ گئی اور چائے میری آگے رکھدی میں نے بھی کوئی 2 منٹ مزید بات کر کے کال کو کٹ کر دیا . پِھر نبیلہ بولی بھائی آپ ا ب کب واپس آئیں گے . تو میں نے کہا نبیلہ تمہیں تو پتہ ہے چھٹی 2 سال بَعْد ہی ملتی ہے اب 2 سال بَعْد ہی آؤں گا . تو نبیلہ بولی بھائی اب تو ہمارے پاس قدرت کا دیا سب کچھ ہے پِھر آپ پکے پکے واپس پاکستان کیوں نہیں آ جاتے اور یہاں آ کر اپنا کوئی کاروبار شروع کر دیں . ہم سب کو آپ کی یہاں زیادہ ضرورت ہے اور آپ کا گھر بھی بچ جائے گا . میں نے کہا ہاں نبیلہ کہتی تو تم ٹھیک ہو لیکن اب میں وہاں جا کر سارے پیسے جوڑ کر پاکستان ہی آنے کی کوشش کروں گا . میں نے نبیلہ کو کہا کے میرا گھر کیسے بچ جائے گا یہ بات تم کیوں کہہ رہی ہو . تو نبیلہ نے کہا کچھ نہیں پِھر آپ کو بتاؤں گی . میں نے نبیلہ کو کہا تم نے مجھے کہا تھا کے ثناء کا کچھ بندوبست کر کے تم مجھے سائمہ اور چا چی کے بارے میں کچھ بتاؤ گی . تم مجھے اب بتاؤ بھی دو کے آخر مسئلہ کیا ہے . میری بات سن کر وہ ایک دم لال سرخ ہو گئی اور بولی بھائی میں آپ کو آپ کے سامنے نہیں بتا سکتی میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے . جب آپ واپس سعودیہ جاؤ گے تو آپ یہاں میرے سامنے نہیں ہو گے تو میں آپ کو سب کچھ فون پے بتا دوں گی . میں نے کہا نبیلہ تم مجھ سے وعدہ کرو کے تم مجھے ایک ایک بات تفصیل سے اور سچ سچ بتاؤ گی . تو نبیلہ بولی بھائی آپ کیسی بات کر رہے ہو آپ کے اندر تو ہماری جان ہے . میں آپ کے ساتھ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتی . میں آپ کو سب کچھ سچ سچ بتاؤں گی . پِھر میں نے کہا نبیلہ مجھے تم سے معافی مانگنی ہے . تو نبیلہ فوراً بولی بھائی کس چیز کی معافی . تو میں نے کہا وہ مجھے سے اس دن بہت غلطی ہو گئی تھی جب تم فرش دھو رہی تھی اور سائمہ والی حرکت اور باتھ روم والی حرکت پے میں تم سے معافی مانگتا ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا . نبیلہ میری بات سن کر شرما کے لال سرخ ہو گئی اور چُپ کر کے نیچے چلی گئی . پِھر وہ دو دن بھی گزر گئے اور میں واپسی کے لیے جب ایئرپورٹ آیا تو مجھے سائمہ اور نبیلہ اور ابّا جی چھوڑ نے کے لیے آئے جب میں اندر جانے لگا تو میرے ابّا جی مجھے گلے لگا کر ملے اور اور پِھر سائمہ بھی مجھے ملی ، لیکن جو مجھے عجیب اور حیران کن بات لگی جب نبیلہ آگے ہو کر مجھے گلے ملی تو اس کا قد میرے سے تھوڑا چھوٹا تھا تو اس نے اپنی دونوں بازو کو میری کمر میں ڈال کر مجھے زور کی جپھی ڈالی مجھے اس کے موٹے موٹے اور نرم نرم ممے مجھے اپنے سینے پے محسوس ہوئے . اور آہستہ سا میرے کان میں بولا بھائی میری واپسی والی بات پے غور کرنا. اور پِھر میں نبیلہ کے بارے میں ہی سوچتے سوچتے ائرپورٹ کے اندر چلا گیا اور واپس سعودیہ آ گیا . مجھے واپس آئے ہوئے کوئی 3 مہینے سے زیادہ ٹائم گزر چکا تھا اور زندگی اپنے معمول پے چل رہی تھی میری گھر پے بھی بات ہوتی رہتی تھی . لیکن میری نبیلہ سے ابھی تک سائمہ اور چا چی کی موضوع پے بات ہی نہیں ہو رہی تھی . زیادہ تر ابّا جی اور سائمہ سے بات ہو کر کال کٹ ہو جاتی تھی . پِھر ایک دن رات کو تقریباً 10بجے کا ٹائم تھا اور پاکستان میں 12 کا ٹائم تھا مجھے نبیلہ کے نمبر سے کال آئی . میں پہلے تھوڑا حیران ہوا کے آج اتنی دیر کو نبیلہ کال کیوں کر رہی ہے . میں نے اس کی کال کٹ کر کے خود کال ملائی اور تو نبیلہ سے سلام دعا ہوئی پِھر وہ میرا حال پوچھنے لگی . وہ شاید میرے سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی لیکن اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی بات کیسے شروع کرے . پِھر میں نے ہی تھوڑی دیر یہاں وہاں کی بات کر کے پوچھا کے سائمہ کیسی ہے تو وہ بولی کے وہ آج لاہور چلی گئی ہے . میں نے کہا نبیلہ آج ٹائم مل گیا ہے تو مجھے آج سائمہ اور چا چی کے بارے میں بتا دو . تا کہ میرے دِل کو بھی سکون ہو . پِھر نبیلہ بولی بھائی آپ سے چا چے نے آخری دفعہ کیا کہا تھا . میں نے اس کو چا چے سے ہوئی بات بتا دی . تو نبیلہ بولی بھائی چھا چے نے بہت مشکل وقعت دیکھا ہے سائمہ اور چھا چی نے چھا چے کی کے آخریسالوںبہت اذیت دی اور بچارے دنیا میں اپنے بِیوِی اور بیٹی کے کرتوت کی وجہ سے گھٹ گھٹ کر دنیا سے چلے گئے. میں نے نبیلہ کو پوچھا نبیلہ صاف بتاؤ تم کہنا کیا چاہتی ہو کیوں گھوما گھوما کر بات کر رہی ہو . تو نبیلہ بولی بھائی چا چی اور سائمہ دونوں ٹھیک عورتیں نہیں ہیں . سائمہ کا شادی سے پہلے ہی کسی ساتھ چکر تھا اور وہ اس کے ساتھ شادی سے پہلے ہی سو چکی ہے . اور چا چی کا بھی اس بندے کے ساتھ چکر ہے اور وہ بھی اس بندے کے ساتھ سب کچھ کرتی ہے جس سے سائمہ کرتی ہے اور دونوں ماں بیٹی کو ایک دوسرے کا پتہ ہے . اور چچی کے 2 یار ہیں جن کے ساتھ اس کا چکر ہے. اِس لیے میں نے ثناء کو اس گھر سے نکالا ہے تا کہ اس کی زندگی برباد نہ ہو. نبیلہ کی بات سن کر میرے سر چکر ا گیا تھا اور مجھے شدید جھٹکا لگا تھا . مجھے اپنی سہاگ رات والی رات کا واقعہ یاد آ رہا تھا اور میرا اس دن والا شق آج نبیلہ کی باتیں سن کر یقین میں بَدَل چکا تھا . کچھ دیر میری طرف سے خاموشی دیکھ کر نبیلہ بولی بھائی آپ میری بات سن رہے ہیں نہ . تو میں اس کی آواز سن کر پِھر چونک گیا اور بولا ہاں ہاں نبیلہ سن رہا ہوں. نبیلہ بولی آپ کیا سوچ رہے ہیں . میں نے کہا نبیلہ مجھے اپنی شادی کی پہلی رات یاد آ رہی ہے مجھے اس رات گزر نے کے بعد صبح ہی میرے دِل میں شق آ گیا تھا جو مجھے آج تمہاری باتوں سے یقین میں بَدَل گیا ہے . تو نبیلہ بولی بھائی مجھے پتہ ہے آپ کو اس رات کیوں اور کیسے شق ہوا تھا .
اس رات میں نے سفید چادر جان بوجھ کر ڈالی تھی تا کہ ہم سب کو سائمہ کی حقیقت پتہ چل سکے . میں نے کہا نبیلہ تمہیں پتہ تھا کے اس کاخون نہیں نکلا جو اِس بات کا ثبوت ہے کے سائمہ ٹھیک لڑکی نہیں تھی . تو نبیلہ نے کہا بھائی مجھے بھی بس شق تھا . آپ نے تو صرف سفید چادر کا راز دیکھا ہے لیکن چا چی کا تو مجھے آپ کی شادی سے پہلے ہی پتہ تھا کہ چا چی کا چا چے کے علاوہ بھی ایک اور یار ہے . مجھے فضیلہ باجی نے بتایا تھا کیونکہ فضیلہ باجی کو بھی چا چی کی اپنی بھابی نے ہی چا چی کا اور اس کے یار کا بتایا تھا .اور چا چی کی بھابی فضیلہ باجی کی کلاس فیلو بھی ہے اور باجی کےسسرا لی محلے میں چا چی کی بھابی کی ا می کا گھر بھی ہے. لیکن بعد میں میں نے سائمہ اور چا چی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے . میں نے کہا تم نے چا چی اور سائمہ کو کہاں دیکھا تھا اور کس کے ساتھ دیکھا تھا . تو نبیلہ نے کہا بھائی جب آپ شادی کر کے واپس سعودیہ چلے گئے تھے تو ایک دفعہ سائمہ ابّا جی کو بول کر مجھے بھی اپنے ساتھ لاہور اپنی ماں کے گھر لے گئی تھی اور میں وہاں 15 دن ان کے گھر میں رہی تھی . ایک دن دو پہر کو جب سب سوئے ہوئے تھے تو میں ثناء کے ساتھ اس کے کمرے میں سوئی ہوئی تھی تو میں پیشاب کے لیے اٹھی اور باتھ روم میں گئی ان کا باتھ روم اوپر والی اسٹوری کی جو سیڑھیاں ہیں اس کے نیچے ہی بنا ہوا تھا میں جب اس کے پاس پہنچی تو مجھے اوپر والے کمرے سے چا چی کی سسکنے کی آواز سنائی دی . میں پِھر بھی باتھ روم میں میں چلی گئی جب باتھ روم سے فارغ ہو کر باہر نکلی تو مجھے چا چی کی سسکنے کی آواز بدستور آ رہی تھی میں حیران بھی تھی اور ڈر بھی رہی تھی .چا چی کو کیا ہوا ہے وہ عجیب عجیب آوازیں کیوں نکا ل رہی ہے . میں آہستہ آہستہ سے چلتی ہوئی اوپر چلی گئی اوپر ایک ہی کمرہ بنا ہوا تھا اسٹور ٹائپ کمرہ تھا اور اس کا ایک دروازہ بند ہوا تھا اور اور ایک سائڈ کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا میں اس کمرے کے پاس گئی اور جا کر اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ اندر ایک جوان 29 یا30 سال کا لڑکا پورا ننگا اور چا چی بھی پوری ننگی تھی اور انہوں نے زمین پر ہی گدا ڈالا ہوا تھا اور وہ لڑکا چا چی کو اُلٹا لیٹا کر چا چی کو چودرہا تھا اور چا چی وہاں سسک رہی تھی . میں نے بس 2 یا 3 منٹ ہی ان کو اِس حالت میں دیکھا تو میرا سر چر  ا گیا تھا میں تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی نیچے آ گئی اور آ کر کمرے میں ثناء کے ساتھ لیٹ گئی . میرا دماغ گھوم رہا تھا . چا چا تو اپنی دکان پے ہی ہوتا تھا اور سائمہ اپنی ماں کے کمرے میں سوتی تھی . وہ دن رات تک میں سوچتی رہی کے میں چا چی کے بارے میں کس سے بات کروں . پِھر میں نے سائمہ سے ہی بات کرنا کا سوچا کے اس کو بتا دوں گی کے اس کی ماں کیا گل کھلا رہی ہے . میں 2 سے 3 دن تک موقع تلاش کرتی رہی کہ اکیلے میں سائمہ سے بات کر لوں . لیکن کوئی موقع نہیں ملا پِھر ایک دن چا چا  چا چی کو کو لے کر اسپتال گیا ہوا تھا . میں اور سائمہ اور ثناء گھر پے اکیلی ہی تھی . تو میں نے سوچا جب ثناء دو پہر کو سو جائے گی تو میں سائمہ کے کمرے میں جا کر اس سے بات کروں گی . اور پِھر دو پہر کو جب ثناء سو گئی تو میں آہستہ سے اٹھی اور کمرے سے نکل کر سائمہ کی ماں کے کمرے میں گئی کیونکہ سائمہ وہاں ہی سوتی تھی میں نے دروازے پے آہستہ سے دستک دی لیکن کوئی اندر سے کوئی جواب نہیں آیا اور پِھر میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو وہ کھل گیا اندر جھانک کر دیکھا تو کمرہ خالی تھا میں حیران تھی یہ سائمہ کاہان گئی ہے میں پِھر وہاں سے باتھ روم کے دروازے پے گئی تو وہ بھی کھلا ہوا تھا اور خالی تھا . میں سوچنے لگی وہ اتنی دو پہر کو کہاں چلی گئی ہے . پِھر میں نے سوچا کے شاید وہ اوپر چھت پے کسی کام سے نہ گئی ہو . میں آہستہ آہستہ سے اوپر گئی اور جب میں کمرے کے پاس پہنچی تو اندر کا منظر دیکھا تو مجھے ایک شدید قسِم کا جھٹکا لگا کیونکہ وہ ہی گدےپے سائمہ اور وہ ہی لڑکا جو چا چی کو چود رہا تھا وہ اب سائمہ کے ساتھ تھا اور وہ ٹانگیں کھول کر بیٹھا ہوا تھا اور سائمہ آگے کو جھک کر اس کا لن منہ میں لے کر چوس رہی تھی . اور میں تو یہ دیکھ کر ہی سر گھوم گیا اور گرنے لگی اور یکدم اپنے آپ کو سنبھال لیا پِھر اس لڑکے نے کہا سائمہ چل جلدی سے گھوڑی بن جا آج پہلے تیری گانڈ مارنےکا دِل پہلے کر رہا ہے . اور سائمہ نے اپنےمنہ سے اس کے لن کو نکالا اور بولی کیوں نہیں میری جان یہ گانڈ تو میں نے صرف رکھی تمھارے لیے ہے . میرا میاں تو مجھے بہت دفعہ گانڈ کا کہہ چکا ہے لیکن میں اس کو ہر دفعہ منع کر دیتی ہوں کے میں نہیں کروا سکتی مجھے درد ہوتا ہے . اس پاگل کو کیا پتہ پھدی کی سیل بھی کسی اور نے توڑی ہے اور گانڈ تو صرف میرے جانو عمران کے لیے ہے . اور دونوں کھلکھلا کر ہنسانے لگے . اور میں باہر ان کی باتیں سن کر پاگل ہو گئی تھی اور میرا بس نہیں چل رہا تھا میں اندر جا کر سائمہ کا منہ توڑدوں کے اس نے میرے گھر والوں اور میرے بھائی کے ساتھ کتنا دھوکہ کیا ہے . اور پِھر یکدم مجھے میرے کاندھے پے کسی کا ہاتھ محسوس ہوا میں ڈر گئی پیچھے مڑ کر دیکھا تو ثناء کھڑی تھی اور مجھے انگلی سے چُپ رہنے کا کہا اور مجھے لے کر نیچے اپنے کمرے میں آ گئی . اور بھائی اس نے مجھے اپنی ماں اور بہن کے بارے میں سب بتایا کے وہ دونوں یہ کام کتنے سال سے کر رہی ہیں . وہ لڑکا سائمہ باجی کا یونیورسٹی کا کلاس فیلو ہے اور باجی اور ا می کے ساتھ بہت دفعہ مل کر بھی یہ کام کر چکا ہے . اور باجی وسیم بھائی کے باہر سعودیہ چلے جانے کے بَعْد یہاں آتی ہی صرف اس لڑکے کے لیے ہے اور یہ کھیل تقریباً ہر دوسرے دن اِس گھر میں کھیلا جاتا ہے. اور بھائی یہ وہ ہی لڑکا ہے جو چا چے کی فوتگی پے بھی گھر میں نظر آ رہا تھا اور چا چی کے آگے پیچھے ہی گھوم رہا تھا . بھائی اِس لیے میں نے ثناء کو اس گھر سے دور رکھنے کے لیے آپ کو کہا تھا . کیونکہ اس بیچاری کی بھی زندگی ان ماں بیٹی نے خراب کر دینی تھی . میں نبیلہ کی بات سن کر شاک کی حالت میں تھا اور میرا اپنے دماغ ساری باتیں سن کر گھوم چکا تھا . میں کافی دیر خاموش رہا اور نبیلہ کی کہی ہوئی باتوں پے غور کر رہا تھا . اِس دوران نبیلہ مجھے 2 دفعہ کہہ چکی تھی بھائی آپ سن رہے ہیں نہ . اور پِھر میں نے آہستہ اور دُکھی دِل سے جواب دیا  ہاں نبیلہ میں سن رہا ہوں . نبیلہ شاید میری حالت سمجھ چکی تھی . اس نے کہا بھائی مجھے پتہ ہے آپ اِس وقعت بہت دُکھی ہو میں آپ کو اِس لیے یہ باتیں نہیں بتا رہی تھی میں نے یہ باتیں بہت عرصہ تک اپنے دِل میں رکھی ہوئی تھیں ان باتوں کو میں نے صرف فضیلہ باجی کو ہی بتایا تھا اور آج آپ کو بتا رہی ہوں . پِھر میں نے کچھ دیر بَعْد ہمت کر کے نبیلہ سے پوچھا کے نبیلہ ایک بات بتاؤ یہ لڑکا تو سائمہ اور چا چی کا یار تھا. لیکن چا چی کا پہلا یار کون تھا جس کی بات تم نے مجھے پہلے بتائی تھی . نبیلہ میری بات سن کر خاموش ہو گئی . میں نے کچھ دیر انتظار کیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا پِھر میں نے دوبارہ نبیلہ سے پوچھا بتاؤ نہ وہ کون ہے . تو نبیلہ آہستہ سے بولی بھائی میں اس کا نہیں بتا سکتی میرے اندر بتانے کے لیے ہمت نہیں ہے مجھے شرم آ رہی ہے . میں نے کہا نبیلہ تم نے اتنا کچھ مجھے بتا دیا ہے اور اب مجھ سے کیا شرم باقی رہ گئی ہے . اور تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کے تم مجھے ساری بات سچ بتاؤ گی
. نبیلہ بولی ہاں بھائی مجھے پتہ ہے لیکن اگر میں آپ کو اس کا بتا دوں گی تو آپ کو یقین نہیں آئے گا . میں نے کہا نبیلہ نہ تم مجھے دیکھ رہی ہو اور نہ میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں تم مجھے بتاؤ کون ہے اتنا کچھ سچ سچ بتا دیا ہے تو اس دوسرے بندے کا بھی بتا دو . تو نبیلہ کچھ دیر خاموش رہی اور پِھر بولی بھائی وہ چا چی کا اپنے چھوٹا سگا بھائی نواز ہے اور وہ چا چی کی بھابی کا میاں بھی ہے . میرے منہ سے بے اختیارنکل گیا کیا کہہ رہی ہو نبیلہ تم ہوش میں تو ہو. نبیلہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئی اور پِھر بولی کے بھائی یہ سچ ہے اور میں اپنے ہوش میں ہی ہوں اور بالکل سچ سچ بتا رہی ہوں . کیونکہ میں نے تو چا چی اور اس کے بھائی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن نواز کی بِیوِی نے خود کئی دفعہ اپنے گھر میں ہی اس کو دیکھا تھا . اور پِھر اس نے باجی فضیلہ کو بتایا تھا . . بھائی مجھے ثناء نے یہ بھی بتایا تھا کے وہ سائمہ کا دوست پہلے صرف سائمہ کے ساتھ ہی کرتا تھا لیکن پِھر اس نے سائمہ کو بلیک میل کر کے چا چی کو بھی شامل کر لیا اور اب دونوں ماں بیٹی مل کر یہ کام کرتی ہیں . اور بھائی جب میں اور سائمہ لاہور سے واپس آ گئے تھے تو اس کے بَعْد سائمہ اور میرا ٹھیک ٹھاک جھگڑا ہوا تھا میں نے اس کو بہت برا بھلا کہا اور اس کو سب کچھ بتا دیا جو میں اس کی ماں کے گھر دیکھ کر آئی تھی . میرے اندر غصے کی آگ ہی ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی . میں نے اس کو کہا کے تمہیں شرم نہیں آئی کے شادی سے پہلے ہی منہ کالا کروا لیا اور پِھر شادی کے بَعْد بھی اب تک اس سے منہ کالا کروا رہی ہو اور ساتھ میں اپنے ماں کو بھی شامل کر لیا ہے . کچھ تو اپنے باپ کی یا خاندان کی عزت کا خیال تو رکھا ہوتا . اگر دونوں ماں بیٹی میں اتنی ہی آگ بھری ہوئی تھی تو تمہاری ماں تو شادی سے پہلے بھی اپنے سگے بھائی سے اپنی آگ ٹھنڈی کروا لیتی تھی . تم نے بھی اپنے ماں کو کہہ کر اپنے مامے کے نیچے لیٹ جانا تھا. اور اپنی آگ ٹھنڈی کروا لینی تھی کم سے کم گھر کی بات گھر میں ہی رہتی اور گھر کے لوگوں تک ہی رہتی . لیکن تم تو ماں سے بھی آگے نکلی تم نے پڑھائی کے بہانے یار بنا لیے پہلے خود اس کے نیچے لیٹ گئی پِھر ماں کو بھی شامل کر لیا اور ماں کو دیکھو اپنے سگے بھائی کے لن سے دِل نہیں بھرا تو اپنی بیٹی کے یار کو اپنا یار بنا لیا . اور اب پتہ نہیں جیسے وہ تمہیں بلیک میل کر کے تمہاری ماں کو چودچکا ہے ویسے ہی تیری ماں کو بلیک میل کر کے پتہ نہیں کن کن سے چودوا چکا ہو گا . کیونکہ تم تو یہاں آ گئی ہو اب پتہ نہیں پیچھے ماں کس کس کو گھر بلا کر اپنی آگ ٹھنڈی کرتی ہو گی . اس نے تو سگے بھائی کو نہیں چھوڑا تو اور کسی کی کیا امید باقی رہ جاتی ہے . بھائی میں نے اپنے دِل کا سارا غبار نکال دیا اور آج تک وہ میری دشمن ہے اور اب تو وہ شیرنی ہو چکی ہے کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کے میں نے یہ ساری باتیں آپ کو نہیں بتائی ہیں لیکن اس کو یہ نہیں پتہ تھا کے میرا ایک بیمار اور عزت دار باپ اور ماں ہے اگر ان کے کان تک کوئی بات بھی پہنچی تو وہ تو جیتے جی مر جائیں گے . اِس لیے اس کو کھلی چھٹی مل گئی تھی وہ سب کچھ تو کرتی ہی تھی . لیکن اس کے بَعْد وہ مجھے بھی آتے جاتے گھر میں اکیلے میں جہاں دیکھ لیتی مجھے کبھی کسی کا اور کبھی آپ کا نام لے تنگ کرتی رہتی ٹوک بولی مارتی رہتی تھی . اور بیہودہ بیہودہ باتیں کرتی تھی. میں نبیلہ کی باتیں سن کر پِھر خاموش ہو گیا اور سائمہ اور چا چی کے بارے میں سوچنے لگا . یہ کیا سے کیا ہو گیا . پِھر نبیلہ بولی بھائی اِس لیے میں نے آپ کو اس دن پے یہ ہی کہا تھا کے آپ پکے پکے پاکستان آ جاؤ اور اِس مسئلے کو حَل کرو . . مجھے خاموش سمجھ کر نبیلہ نے پوچھا بھائی آپ کیا سوچ رہے ہیں . تو میں چونک گیا اور نبیلہ سے پوچھا کے تمہیں سائمہ کس بات کے لیے تنگ کرتی ہے مجھے بتاؤ میں اس کنجری کی کھال اُتار کے رکھ دوں گا . تو نبیلہ پِھر خاموش ہو گئی اور کچھ نا جواب دیا میں نے پِھر کہا بتاؤ نہ وہ تمہیں کیا کہتی ہے . تو نبیلہ نے کہا بھائی میں وہ باتیں نہیں بتا سکتی آپ کی بہن ہوں مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے. میں نے کہا نبیلہ جس طرح تم نے بے باکی سے پہلے مجھے سب کچھ بتایا ہے اور سائمہ کے ساتھ جھگڑا کر کے اس کوسنائی ہیں اس ہی ہمت سے مجھے بتاؤ تمہیں وہ کیا کہتی ہے نہیں تو میں یہاں بیچین رہوں گا کے میری بہن کیا کچھ برداشت کر رہی ہے. پِھر نبیلہ نے کہا بھائی وہ بہت گندی گندی باتیں کہتی ہے مجھے آپ کو بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے میں کیسے آپ کو بتاؤں . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے جیسے تمھارے مرضی اگر اپنے بھائی پے یقین نہیں ہے یا پرایا سمجھتی ہو تو بے شک نہ بتاؤ. نبیلہ فوراً بولی کے بھائی میں اس کنجری کے لیے اپنے اتنے پیارے بھائی کو کیسے پرایا سمجھ سکتی ہوں . یہ آپ سوچنا بھی نہیں . آپ ہمارے لیے سب کچھ ہیں . میں آپ کو بتاتی ہوں کہ وہ کیا کیا کہتی ہے تھوڑا انتظار کریں میں چھت پے جاتی ہوں اور وہاں جا کے آسانی سے آپ سے بات کرتی ہوں . میں نے کہا ٹھیک ہے میں انتظار کر رہا ہوں. پِھر کوئی 2 منٹ کے بعد ہی نبیلہ کی آواز آئی ہاں بھائی میں چھت پے آ گئی ہوں . میں نے کہا اچھا اب بتاؤ سائمہ تمہیں کیا کہتی ہے اور کیوں تنگ کرتی ہے. پِھر نبیلہ کچھ دیر خاموش رہی پِھر وہ بولی کہ بھائی جب بھی میں اس کو تعنے مارتی ہوں یا اس کو اس کی اصلیت بتاتی ہوں تو وہ میں مجھے گندی گندی باتیں کہتی ہے . کہتی ہے نبیلہ تو بھی کوئی دودھ کی دُھلی ہوئی نہیں ہے مجھے پتہ ہے تیری اِس عمر میں کیا حالت ہے تم بھی کسی اچھے اور مضبوط لن کے لیے ترستی ہو تمھارے اندر بھی آگ بھری ہوئی ہے تمہارا جسم بتاتا ہے کے تمہیں کسی مضبوط مرد کی ضرورت ہے جس سے روز اپنے اندر لن کروا سکو. اور کہتی ہے نبیلہ اگر تو میرا ساتھ دے تو میں تیرا ساتھ دے سکتی ہوں تیری مدد کر سکتی ہوں تمہیں بھی اچھے اور تگڑے لن تیرے اندر کروا سکتی ہوں . بس تو میرا ساتھ دے اور میں تیرا ساتھ دوں گی اور خاموشی سے دونوں مزے کرتی ہیں . اور بھائی آپ اور باجی کی بارے میں بہت گندی گندی ب باتیں کرتی ہے . میں نے کہا میرے اور باجی کے بارے میں کیا کہتی ہے . تو پِھر نبیلہ کچھ دیر خاموش ہو کر بولی کے بھائی وہ کہتی ہے نبیلہ تو اگر میرا ساتھ دے تو میں تیرے بھائی کا لن بھی تیرے اندر کروا سکتی ہوں تیرے بھائی کا لن موٹا اور لمبا ہے میرے یار عمران سے بھی بڑا ہے . وہ تو تیرا بھائی 2 سال اکیلا چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو میں اپنے یار عمران سے مزہ لینے لاہور چلی جاتی ہوں نہیں تو اگر تیرا بھائی یہاں ہو تو میں کبھی بھی لاہور نا جاؤں کہتی ہے تیرا بھائی جم کر چودتا ہے . قسم لے لو اس کا لن لے کر مزہ آجاتا ہے . تیرے اندر جائے گا تو ساری زندگی مجھے دعا دے گی اور گھر میں ہی روز جب دِل کیا صبح شام لن لیتی رہنا . بھائی اس نے ایک تصویر مجھے دکھائی تھی اور پِھر نبیلہ خاموش ہو گئی . میں نے فوراً پوچھا کون سی تصویر اور کس قسِم کی تصویر دکھائی ہے . تو نبیلہ بولی بھائی وہ.. میں نے کہا نبیلہ اب بھی کوئی بات رہ گئی ہے جس سے تم شرما رہی ہو . تو نبیلہ نے کہا بھائی سائمہ نے آپ کے لن کی اپنے موبائل میں تصویر بنائی ہوئی تھی آپ شاید صبح کے وقعت سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی شلوار اُتار کر آپ کے لن کی تصویر بنائی ہوئی تھی اور مجھے دیکھا کر کہتی ہے یہ دیکھ اپنے بھائی کا لن کتنا لمبا اور موٹا لن ہے
دیکھو کیسے لوہے کے را ڈ کی طرح کھڑا ہے موٹا تازہ خود سوچ تیرے اندر جائے گا تو دنیا کا اصلی مزہ مل جائے گا . اور کہتی ہے ایک تم ہو جس کو اتنا موٹا لن پسند نہیں آ رہا اور اور نخرے کر رہی ہے دوسری طرف میری ماں ہے جب سے اس کو میں نے تصویر دکھائی ہے وہ پاگل ہو گئی ہے مجھے بار بار کہتی ہے کے وسیم کو میرے لیے تیار کر مجھے اس کا لن اپنے اندر لینا ہے تیرے بھائی کے لن کے لیے وہ مر رہی ہے . بھائی میں نے اس کو غصے میں کہا کے ہاں تیری ماں نے تو اپنے سگے بھائی کو بھی نہیں چھوڑا اور اولاد ہونے کے بعد بھی اپنے بھائی کے نیچے آرام سے لیٹ جاتی ہے اس کو تو اپنے داماد میرے بھائی کا لن تو اچھا لگے گا ہی اِس میں حیران ہونے والی کون سی بات ہے. تو بھائی پِھر اس نے مجھے باجی کے بارے میں گندی گندی باتیں بولنے لگی . میں نے کہا باجی کے بارے میں کیا کہتی ہے . تو نبیلہ نے کہا بھائی کہتی ہے ہاں تو تیری بڑی بہن بھی کون سا پاکباز ہے . شادی سے پہلے ہی اپنے میاں کو چھپ چھپ کر ملتی تھی کبھی اس کے گھر چلی جاتی تھی کبھی اپنے گھر میں بلا لیتی تھی اس نے بھی تو شادی سے پہلے ہی اپنے میاں کا لن کتنی دفعہ اندر کروا لیا تھا . 1 دفعہ تو میں نے خود اس کو رنگے ہاتھ پکڑا تھا . جب وہ مزے سے لن گانڈ میں لے کر اچھل رہی تھی . اور مجھے دیکھ کر شرمندہ ہونے کے بجا ے مجھے کہتی ہے میں کون سا کسی غیر سے کروا رہی ہوں میرا ہونے والا میاں ہی ہے نا . بھائی میں نے اس کو کہا کے اِس میں کون سی اتنی بڑی بات ہے وہ کوئی غیر تو نہیں تھا خا لہ کا بیٹا تھا اور بَعْد میں اس کی شادی بھی تو اس کے ساتھ ہی ہو گئی تھی . تمھارے طرح تو نہیں کہ شادی سے پہلے اپنے کسی غیر پرا ے باہر کے یار کے ساتھ منہ کالا کیا پِھر میرے بھائی کی زندگی میں آ گئی اور اس کو بھی دھوکہ دیا اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے ماں کو بھی اپنے غیر اور پرا ے یار کے نیچے لیٹا دیا . اتنا ہی اپنی عزت اور خاندان کا خیال ہوتا تو تم ماں بیٹی باہر کسی غیر کے آگے منہ مارنے اور پِھر ان کے ھاتھوں بلیک میل ہونے سے بہتر تھا جیسے تیری ماں نے اپنے سگے بھائی کو ہی اپنا یار بنا لیا تھا تمہیں بھی اس کے نیچے لیٹا دیتی کم سے کم گھر کا بندہ اور سگا ہونے کے ناتے تم لوگوں کو بلیک میل تو نہ کرتا جیسے آج وہ حرامی تم ماں بیٹی کا یار عمران تم دونوں کو بلیک میل کر کے خود بھی مزہ لوٹ رہا ہے اور دوسروں کو بھی لوٹا رہا ہو گا . اب تو تم دونوں ماں بیٹی پے یقین ہی نہیں رہا پتہ نہیں کتنے لوگوں سے کروا چکی ہوں گی. بھائی مجھے آگے سے کہتی ہے بس کر بس کر میں تمہیں بھی اور تیری بہن کو اچھی طرح جانتی ہوں . بھائی میری گانڈ میں ہاتھ مار کے کہتی ہے یہ جو اتنی بڑی گانڈ بنا لی ہے یہ ایسے ہی نہیں بن جاتی اِس کو ایسا بنانے کے لیے کتنا عرصہ لن اندر لینا پڑتا ہے پِھر جا کر ایسی گانڈ بنتی ہے . مجھے تو شق ہے تو بھی یہاں گاؤں میں کسی کے ساتھ خاموشی سے چکر چلا کر بیٹھی ہے اور چُپ چاپ کر کے لن اندر باہر کروا رہی ہے اِس لیے تو تیرا جسم اتنا بھر گیا اور گانڈ بھی مست بن گئی ہے . کہتی ہے آنے دے اِس دفعہ تیرے بھائی کو کیسے اس کو اکساتی ہوں کے تیری بہن کا کسی کے ساتھ چکر ہے اور وہ چھپ چھپ کر کسی سے مل کر مزہ لوٹ رہی ہے ذرا اِس کا جسم تو دیکھ اِس کا پِھر دیکھنا تیری کیسی شامت آتی ہے. بھائی میں نے آگے سے کہا تم جو مرضی کر لو میرے ماں باپ اور میرا بھائی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں تم خود ہی مشکل میں آ جاؤ گی کیونکہ اب تو مجھے پتہ ہے پِھر بھائی اور ابّا جی ا می اور سارے خاندان کو تیرے اور تیری ماں کے کرتوت پتہ چلیں گے . بھائی کہتی ہے دیکھا جائے گا اور مجھے کہتی ہے تیری بڑی بہن ایک نمبر کنجری ہے جب میں ولیمہ سے اگلے دن  اپنے ماں باپ کے گھر گئی تھی تو مجھے فون کر کے کہتی ہے سائمہ سناؤ کیا حال ہے اور سناؤ  سھاگ رات کیسی گزری تھی . میرے بھائی نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا تھا . اور میں نے تیری بہن کو بتایا تھا کہ باجی آپ کا بھائی بہت ظالم ہے اس نے پہلی رات کو 3 دفعہ چود کر رکھ دیا تھا صبح میری کمر میں اتنا دردتھا. مجھ سے چلا نہیں جا رہا تھا . تو آگے سے تیری پاکباز بہن کہتی ہے کے سائمہ ایسا نہیں ہو سکتا میرا بھائی بہت اچھا بندہ ہے وہ کسی پے ظلم کر ہی نہیں سکتا . تم پے ایسا کون سا ظلم کر دیا کے تمہاری کمر میں درد شروع ہو گیا تھا اور تم چل بھی نہیں سکتی تھی. پِھر میں نے تیری بہن کو بتایا کے باجی یہ تم کہہ سکتی ہو مجھ سے پوچھو جس نے اس رات کو 3 دفعہ اس کو برداشت کیا ہے تم نے تو اپنے بھائی کا لن دیکھا بھی نہیں ہو گا میں نے پورا اندر لیا تھا وہ بھی ایک رات میں 3 دفعہ میری جان نکل گئی تھی . تقریباً 7 انچ لمبا اور موٹا لن تھا. تیرے بھائی کا میں نے تو لیا ہے اِس لیے بتا رہی ہوں . تم نے تو لیا نہیں ہے نہ اِس لیے اس کا ظلم تمہیں کیسے محسوس ہو گا . اور پتہ ہے آگے سے تیری کنجری بہن کیا کہتی ہے سائمہ پہلی دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے اور مزہ بھی تو مضبوط اور موٹے لن سے ہی آتا ہے جب پورا اندر جڑ تک جاتا ہے . تو مزہ آ جاتا ہے اور مزے میں دنیا بھول جاتی ہے . اور تم خوشنصیب ہو میرے بھائی کا اور مضبوط لن زندگی میں ملا ہے . ساری زندگی مزہ کرو گی . اگر وہ میرا میاں ہوتا تو میں صبح شام اس کا لن اندر لیتی اور کبھی اپنے کمرے سے بھی نکلنے نہ دیتی . پِھر میں نے تیری باجی کو کہا تھا کے باجی اگر اتنا ہی تمہیں تجربہ ہے تو تم کیوں نہیں ایک دفعہ اپنے بھائی سے کروا کر دیکھ لیتی جب وہ پورا اندر ڈالے گا تو ایک دفعہ میں ہی تمہیں پتہ چل جائے گا کے تمہارا بھائی کتنا ظلم کرتا ہے . اگر یقین نہیں آتا ایک دفعہ اپنے بھائی سے کر کے دیکھ لو خود ہی پتہ چل جائے گا . تو پتہ ہے تیری بہن آگے سے کہتی ہے . سائمہ میں تو تقریباً روز ہی اپنے میاں کا اندر لیتی ہوں میں تو گانڈ میں بھی روز لیتی ہوں مجھے تو اصلی مزہ آتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے جتنا تم میرے بھائی کا موٹا اور مضبوط لن کا بتا رہی ہو اتنا تو میرے میاں کا نہیں ہے اس سے چھوٹا ہے لیکن پِھر بھی میں تو پھدی میں بھی اور گانڈ میں آسانی سے اپنے بھائی کا لن لے لوں گی پہلی دفعہ تھوڑا مشکل ہو گی لیکن اس کے بعد تو مزہ ہی مزہ ہو گا . لیکن میری قسمت میں شاید ایسا لن نہیں لکھا ہوا ہے . وہ ابھی تیرے نصیب میں ہے . میں تو کہتی ہوں تم تھوڑا بہت برداشت کر لیا کرو پِھر کچھ دن بعد تمہیں عادت ہو جائے گی تو خود ہی میرے بھائی کو روز لن ڈالنے کا کہا کرو گی ابھی تو شاید وہ تمہاری گانڈ نہیں مارتا ہو گا اگر وہ مارتا تو شاید تم پِھر مر ہی گئی ہوتی . تو میں نے کہا تمھارے بھائی نے مجھے سے فرمائش کی تھی لیکن میں نے خود منع کر دیا تھا پھدی کو ہی رگڑ کر رکھ دیتا ہے تو گانڈ میں تو مار ہی ڈالے گا . پِھر تیری باجی نے آگے سے کہا سائمہ دیکھ لو بھلے میرے میاں کا لن میرے بھائی جیسا لمبا نہیں لیکن پِھر بھی میں پھدی میں بھی اور گانڈ میں ہر روز پورا اندر لیتی ہوں میں بھی تو ہمت کرتی ہوں تم بھی کر لیا کرو . اور میرے بھائی کو خوش کر دیا کرو اور خود بھی ہوا کرو آگے تمہاری اپنی مرضی ہے. بھائی میں نے اس کو کہا تم یہ سب بکواس کر رہی ہو میری بہن اتنا کچھ تم کو نہیں بول سکتی . تو سائمہ آگے سے کہتی ہے ٹھیک ہے آنے دو تمھارے بہن کو پِھر تمہیں خود ہی اس کے سامنے کروا دوں گی پِھر پوچھ لینا اور میں بکواس کر رہی ہوں یا سچ بول رہی ہوں . میں نے پوچھا نبیلہ تم نے پِھر سائمہ کو آگے سے کیا جواب دیا . تو نبیلہ نے کہا بھائی میں خود تو شاید باجی سے اکیلے میں یہ باتیں پوچھ سکتی تھی لیکن سائمہ کے آگے نہیں پوچھ سکتی تھی ہم دونوں بہن کی ایک دوسرے کے سامنے عزت نہیں رہنی تھی . لیکن بھائی پِھر سائمہ نے یکدم اس دن میرے ساتھ اتنی گندی حرکت کی کے میں آپ کو بتا نہیں سکتی . میں نے کہا نبیلہ جتنا کچھ تم سنا اور بول چکی ہو اب تمہیں کچھ اب چھپا نا نہیں چاہیے . بتا دو اس نے کیا کیا تمھارے ساتھ . . نبیلہ آگے سے بولی وہ میں بھائی وہ میں بھائی . . میں نے کہا کیا وہ میں وہ میں لگائی ہوئی ہے سیدھی طرح بتاؤ کیا ہوا تھا. تو نبیلہ نے کہا بھائی سائمہ نے یکدم اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر شلوار کے اوپر ہی میری پھدی والی جگہ پے رکھ دیا اور اس کو تھوڑا مسلا تو اس کا ہاتھ گیلا ہو گیا اور اپنے گیلے ہاتھ کو اپنی ناک کے پاس لے جا کر سونگھا اور بولی واہ میری نبیلہ رانی مجھے تو  پاک بازی کے لیکچر ایسے دے رہی تھی اور اپنا آپ دیکھا ہے اپنے بھائی کے لن اور اپنی بہن کی پھدی اور گانڈ کی گرم گرم باتیں سن کر تم نیچے سے فارغ ہو چکی ہو اِس کا مطلب ہے تمہیں بھی اپنے بھائی کا لن بہت پسند ہے اور میں سائمہ کی بات سن کر ہی اپنے کمرے میں بھاگ گئی اور نبیلہ نے یہ بات کہہ کر کال کاٹ دی تھی. اور نبیلہ کی ساری باتیں سن کر میرا دماغ تو گھوم ہی چکا تھا
لیکن جب میری نظر نیچے اپنی شلوار پے گئی تو میرا لن تن کے فل کھڑا تھا اور میری شلوار بھی گیلی ہوئی تھی شاید میری اپنی بھی کچھ منی نکل چکی تھی. میں نے ٹائم دیکھا تو 12 بج چکے تھے اور پاکستان میں 2 ہو گئے تھے . اب اپنی بہن اور سائمہ کی طرف سے سب کچھ جان چکا تھا اور میری بے چینی ختم ہو چکی تھی لیکن ان سب باتوں کی وجہ سے میرا ری ایکشن یعنی میرے لن کا کھڑا ہونا اور منی چھوڑ نا یہ مجھے عجیب بھی اور مزے کا بھی لگا . پِھر میں اٹھ کر نہایا کپڑے تبدیل کیے اور پِھر اپنے بیڈ پے لیٹ گیا اور سوچتے سوچتے پتہ نہیں کب نیند آ گئی اور سو گیا. اس دن کے بعد مجھے اور نبیلہ کو دوبارہ اس موضوع پے بات کرنے کا موقع نہ ملا جب بھی پاکستان گھر میں بات ہوتی تو نبیلہ سے بھی بس تھوڑی بہت حال حوال پوچھ کر بات ختم ہو جاتی تھی . مجھے اب نبیلہ سے اس موضوع پے بات کیے ہوئے کوئی 4 مہینے گزر چکے تھے . اور مجھے پاکستان سے واپس سعودیہ آئے ہوئے بھی تقریباً 8 مہینے گزر چکے تھے ٹائم تیزی سے گزر رہا تھا مجھے سعودیہ میں رہتے ہوئے تقریباً 8 سال ہو چکے تھے میں نے بہت زیادہ پیسہ بھی کمایا تھا اور اس کو اپنی اور گھر کی ضروریات پے خرچ بھی کیا تھا اور کافی سارا پیسہ جمع بھی کیا ہوا تھا کچھ پاکستان میں بینک میں رکھا دیا تھا ابا جی کے اکاؤنٹ میں جو کے بعد میں مشترکہ اکاؤنٹ بن گیا تھا . اور کچھ پیسہ سعودیہ میں ہی بینک میں جمع کیا ہوا تھا جب سے میری نبیلہ سے وہ موضوع پے باتیں ہوئی تھی میں نے پکا پکا پاکستان جانے کا پلان بنا نا شروع کر دیا تھا اور یہ بھی پلان کرنے لگا تھا پاکستان جا کر اپنا کاروبار شروع کروں گا . اور سائمہ اور نبیلہ اور باجی فضیلہ کا مسئلہ بھی گھر میں رہ کر حَل کر سکتا تھا . اور پِھر میں نے کافی سوچ و چار کے بعد فیصلہ کر لیا کے مجھے باقی 1 سال اور کچھ مہینے اور محنت کرنا ہو گی اور پِھر اپنا سارا پیسہ لے کر اِس دفعہ 2 سال پورے ہونے پے پکا پکا سعودیہ سے واپس اپنے ملک پاکستان چلا جاؤں گا. اِس لیے میں نے اپنا باقی ٹائم زیادہ محنت شروع کر دی اور ایک دفعہ پِھر 14گھنٹے ٹیکسی چلانے کی ڈیوٹی دینے لگا اب میں آدھا وقعت دن کو اور آدھا وقعت رات کو ٹیکسی چلاتا تھا . اور اِس طرح ہی مجھے 1 سال مکمل ہو گیا . اور میرا 1 سال مزید باقی سعودیہ میں رہ گیا تھا . ایک دن میں رات کو اپنی ٹیکسی میں ہی باہر کھڑا کسی سواری کا انتظار کر رہا تھا تقریباً 10:40کا ٹائم ہو گا مجھے نبیلہ کے نمبرسے مس کال آئی . میں تھوڑا پریشان ہو گیا کے اتنی رات کو خیر ہی ہو کچھ مسئلہ تو بن گیا میں نے فوراً کال ملائی تو نبیلہ نے مجھے سلام دعا کی اور بولی بھائی معافی چاہتی ہوں اتنی رات کو آپ کو تنگ کیا ہے . دراصل وہ آج سائمہ پِھر اچانک لاہور چلی گئی ہے دو پہر کے 2 بجے اس کی امی کا فون آیا تھا تو میں اچانک سائمہ کے کمرے کے آگے سے گزر رہی تھی تو مجھے ہلکی ہلکی سائمہ کی فون پے باتیں کرنے کی آواز آ رہی تھی میں نے بس یہ سنا تھا کےامی آپ فکر نہ کریں میں کوئی بھی بہانہ بنا کر آ جاؤں گی . آپ اس کو کہو میرا اسٹیشن پے انتظار کرے اور جب تک میں گھر سے نکل نہیں آتی تو میرے نمبر پے کال نا کرے . اور پِھر فون بند ہو گیا میں باہر کھڑی سوچنے لگی کے یہ کنجری پِھر کسی چکر میں ہی اپنی ماں کے پاس جا رہی ہے . میں نے کمرے   میں دیکھا کے سائمہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھ رہی تھی پِھر کوئی 15 منٹ بَعْد دوبارہ سائمہ کے نمبر پے کال آئی شاید اِس دفعہ کسی اور کی کال تھی بَعْد میں پتہ چلا وہ اس کے یار عمران کی کال تھی وہ اس کا ملتان اسٹیشن پے انتظار کر رہا تھا اور اِس کو لاہور سے لینے آیا ہوا . سائمہ نے تھوڑا غصہ کرتے ہوئے اپنے یار کو فون پے کہا عمران تم سے صبر نہیں ہوتا میں نے امی کو فون کیا تھا نہ کے مجھے تم کال نہ کرنا جب تک میں گھر سے نکل نہیں آتی اور تم باز نہیں آئے بھائی اس کا یار پتہ نہیں آگے سے کیا بات کر رہا تھا . لیکن سائمہ نے اس کو کہا اچھا اچھا زیادہ بکواس نہیں کرو ٹرین میں کر لینا . اور انتظار کرو میں بس 6 بجے تک میں وہاں آ جاؤں گی اور سائمہ نے اپنا فون بند کر دیا . وہ گھر سے5 بجے نکلی تھی اور 7 بجے ٹرین کا ٹائم تھا میرے خیال میں اب بھی وہ شاید ٹرین میں ہی ہو گی آپ اس کو کال کرو اور اس کی کلاس لو اور پوچھو کے وہ رات کے ٹائم میں لاہور کے لیے اکیلی کیوں نکلی ہے . میں نے کہا نبیلہ میری بات سنو میری یہاں سے کلاس لینے سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا . اُلٹا شاید وہ کوئی اور بکواس کرے اور میں غصے میں آ جاؤں اور مسئلہ زیادہ بن جائے گا . تو اس کنجری کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا کیونکہ اس کی ماں گاؤں سے سب کچھ چھوڑ کر لاہور میں رہتی ہے یہ بھی اس کے پاس چلی جائے گی اور اس کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا لیکن ہمارے گھر پے بہت فرق پڑ ے گا . کیونکہ جب آبا جی امی کو باجی کو اس کے سسرال والوں کو اور خاندان کے لوگوں کو ساری حقیقت پتہ چلے گی تو ہمارے گھر کی بدنامی زیادہ ہو گی سب یہ ہی کہیں گے کے اتنے سال سے سائمہ اور اس کی ماں یہ سب کچھ کر رہی ہیں اور کیوں ہم نے پہلے دن ہی خاندان میں سب کو ان کی اصلیت نہیں بتائی. اِس لیے میری بہن جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہے . اور وہ میری بِیوِی بھی ہے اور سب سے بڑی بات چا چے کے بیٹی ہے . مجھے اس کو اور اس کی ماں کو ان کی ہی زُبان میں جواب دینا ہو گا اور دونوں ماں بیٹی کو خاندان کے قابل اور ٹھیک کرنا ہو گا . اور یہ مت بھولو کے ثناء بیچاری بھی اِس خاندان کا حصہ ہے . اس کا بھی سوچنا ہے . سائمہ نے تو اپنی جوانی میں غلط کام کیا ہے لیکن چا چی اس کے بھائی تک تو میں کسی حد تک شایدمان ہی لیتا لیکن وہ اپنی بیٹی کی ہم عمر غیر لڑکے سے عزت لوٹا رہی ہے اور اس کو پہلے ٹھیک کرنا ہے . میری بات سن کر نبیلہ بولی بھائی لیکن سائمہ کو کسی نہ کسی دن تو اس لڑکے سے ملنے سے روکنا ہے اور چا چی کو بھی روکنا ہے . لیکن یہ کیسے ہو گا اور کب ہو گا . آپ تو وہاں بیٹھے ہیں خود ہی یہ مسئلہ ٹھیک کیسے ہو گا . اور میں آپ کی بات نہیں سمجھ سکی کے آپ کہہ رہے تھے چا چی اور سائمہ کو ان کی زُبان میں ہی سمجھا نا پڑے گا . میں آپ کی بات کو سمجھی نہیں ہوں . میں نے کہا دیکھو نبیلہ یہ مسئلہ کب اور کیسے حَل ہو گا میں خود اِس کو حَل کروں گا اور ٹھیک بھی کروں گا . اور دوسری بات میں تمہیں صرف بتا رہا ہوں کے میرا یہ آخری سال ہے سعودیہ میں اور میں نے اب پکا پکا پاکستان آنے کا پروگرام بنا لیا ہے میں اِس  دفعہ پکا پکا آؤں گا . اور پِھر خود گھر آ کر یہ سب مسئلے حَل کروں گا . نبیلہ میری بات سن کر خوش ہو گئی اور فوراً بولی بھائی آپ سچ کہہ رہے ہیں کے آپ اپنے گھر واپس آ رہے ہیں . میں نے کہا ہاں میری بہن میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں

 
Return to Top indiansexstories